فلپائنی فوڈ انفلوئنسر کو زہریلا کیکڑا کھانا مہنگا پڑگیا، جان سے ہاتھ دھو بیٹھی

featured
service
Share

Share This Post

or copy the link

فلپائن سے تعلق رکھنے والی سوشل میڈیا انفلوئنسر زہریلا کیکڑا کھانے سے جان کی بازی ہار گئیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 51 سالہ ایما امیت سوشل میڈیا فوڈ انفلوئنسر تھیں جو مختلف جگہوں پر جا کر کھانے سے متعلق ویڈیوز بناتی تھیں۔

 میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ 4 فروری کو  ایما امیت دوستوں کے ساتھ اپنے گھر کے قریب  مینگروز کے جنگل سے سمندری غذا اکٹھا کرنے گئی تھی، جہاں سے وہ شیل فش کو گھر لے آئی تاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک اور ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بنا سکیں۔

سمندری غذا کو ابالنے اور پکانے کے بعد ایما امیت نے ایک زہریلا کیکڑا ‘ڈیول کریب’ اٹھایا اور اسے اپنے ناظرین کو دکھانے کے لیے کھا لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اگلے روزپڑوسیوں نے ایما امیت کے شدید بیمار ہونے کی اطلاع دی اور اسے مقامی کلینک لے جایا گیا، جہاں اسے دورے پڑنے لگے اور اس کے ہونٹ گہرے نیلے ہو گئے، جس کی وجہ سے اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔

تاہم بدقسمتی سے وہ دو دن تک زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کے بعد 6 فروری کو دنیا سے رخصت ہوگئی۔

اس حوالے سے سمتھسونین انسٹی ٹیوشن کا کہنا ہے کہ ‘ڈیول کریب’ پورے ہند-بحرالکاہل میں پائے جاتے ہیں جہاں وہ مرجان کی چٹانوں میں رہتے ہیں۔

 ان میں طاقتور نیوروٹوکسن (زہریلا مادہ) ہوتا ہے جو پفر فش میں بھی پائے جاتے ہیں۔

0
happy
Happy
0
sad
Sad
0
annoyed
Annoyed
0
surprised
Surprised
0
infected
infected
فلپائنی فوڈ انفلوئنسر کو زہریلا کیکڑا کھانا مہنگا پڑگیا، جان سے ہاتھ دھو بیٹھی

You can subscribe to our newsletter completely free of charge.

Don't miss the opportunity and start your free e-mail subscription now to be informed about the latest news.

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Gadgets, Urdu News, Latest Urdu News, National & International News Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us