کراچی: شدید گرمی کے باوجود پیپلزبس بغیر ایئرکنڈیشن کے سڑکوں پر چلنے لگی تاہم حبس اور دم گھٹنے کے خوف سے مسافروں نے ہنگامی طور پر بس کی چھت پر بنے روشن دان کھول دیے گئے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے کراچی کے شہریوں کے لیے شروع کی گئی جدید ‘پیپلز بس سروس’ بھی اب انتظامی غفلت کا شکار ہونے لگی۔
شہرِ قائد میں جاری شدید گرمی اور حبس کے باوجود پیپلز بس سروس کی متعدد بسیں بغیر ایئر کنڈیشن کے سڑکوں پر دوڑائی جا رہی ہیں، جس نے مسافروں کا جینا محال کر دیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ روٹ آر-9 (R9) پر ٹاور سے گلشنِ حدید جانے والی پیپلز بس کا اے سی مکمل طور پر بند پایا گیا۔ شدید ترین گرمی میں اے سی بند ہونے اور بس فکسڈ ہونے کی وجہ سے اندر ہوا کا گزر ناممکن ہو گیا، جس سے بس کے اندر سوار مسافروں کا دم گھٹنے لگا۔
حبس اور دم گھٹنے کے خوف سے مسافروں نے ہنگامی طور پر بس کی چھت پر بنے روشن دان کھول دیے تاکہ کسی حد تک تازہ ہوا اندر آ سکے۔
بس میں سوار مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سندھ حکومت صوبے میں جدید اور آرام دہ ٹرانسپورٹ کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہے، تو دوسری طرف چلچلاتی دھوپ اور 38 ڈگری سے زائد کے درجہ حرارت میں شہریوں کو بند شیشوں والی بسوں میں بغیر اے سی کے سفر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
مسافروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان بسوں کی مینٹیننس کو فوری یقینی بنایا جائے اور شہریوں کو اس سفری عذاب سے نجات دلائی جائے۔
کراچی میں شدید گرمی ، پیپلز بس بغیر ایئرکنڈیشن کے سڑکوں پر چلنے لگی



