حقِ مہر بیوی کا قانونی حق ہے، شوہر کی مرضی یا احسان نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

featured
service
Share

Share This Post

or copy the link

لاہور : لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقِ مہر سے متعلق تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ حق مہربیوی کاقانونی حق ہے شوہر کی مرضی یااحسان نہیں ہے، شادی کے وقت کیا گیا ہر وعدہ پورا کرنا ہوگا”۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقوق اور حقِ مہر کے تحفظ کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے واضح کیا ہے کہ حقِ مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، یہ شوہر کی مرضی یا کوئی احسان نہیں ہے بلکہ قانون میں اسے بیوی پر شوہر کا “قرض” تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں رولنگ دی ہے کہ شوہر نکاح نامے میں درج حقِ مہر کے علاوہ شادی کے وقت کسی بھی الگ معاہدے میں لکھی گئی چیزیں بھی بیوی کو دینے کا قانونی طور پر پابند ہے۔
ایک خاتون نے حقِ مہر میں 5 مرلے کا مکان اور عدت کے خرچے کی وصولی کے لیے فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا تھا۔ خاتون کا مؤقف تھا کہ شوہر نے شادی کے روز ایک الگ تحریری معاہدے میں 5 مرلے کا گھر دینے کا وعدہ کیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جسے شوہر نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ جعلی ہے اور بعد میں تیار کیا گیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد شوہر کی اپیل مسترد کر دی اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ ریکارڈ کے مطابق معاہدے کے سچے گواہوں نے فیملی کورٹ میں پیش ہو کر بیانات دیے اور اس دستاویز کو قانونی طور پر ثابت کیا۔
عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلے میں پاکستانی معاشرے کے تلخ حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا “ہمارے معاشرے میں گھریلو اور سماجی دباؤ کے باعث خواتین اکثر شادی برقرار رکھنے کے لیے زندگی کے دوران اپنا حقِ مہر طلب نہیں کرتیں، شادی کے دوران مہر کا مطالبہ نہ کرنے کو کسی بھی صورت خاتون کے اپنے حق سے دستبرداری تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔”
فیصلے میں مزید وضاحت کی کہ مسلم قوانین کے تحت حقِ مہر زبانی، تحریری یا شادی کے بعد بھی طے کیا جا سکتا ہے، اور اسلام شوہر کو شادی کے بعد بھی مہر کی رقم یا جائیداد میں اضافے کی اجازت دیتا ہے۔
عدالت نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ خاندانی معاملات کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں صرف خشک تکنیکی قوانین کو نہیں بلکہ سماجی اور معاشرتی حقائق کو بھی مدِنظر رکھتی ہیں، کیونکہ فیملی کورٹس کا بنیادی مقصد ہی خاندانی تنازعات کو انصاف اور توازن کے ساتھ حل کرنا ہے۔

1
happy
Happy
0
sad
Sad
0
annoyed
Annoyed
0
surprised
Surprised
0
infected
infected
حقِ مہر بیوی کا قانونی حق ہے، شوہر کی مرضی یا احسان نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

You can subscribe to our newsletter completely free of charge.

Don't miss the opportunity and start your free e-mail subscription now to be informed about the latest news.

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Gadgets, Urdu News, Latest Urdu News, National & International News Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us